باغ تاراج باغباں غائب
Om Krishn Rahat (b. 1925)باغ تاراج باغباں غائب
شاخ موجود آشیاں غائب
جس نے سوچا تھا حق کی بات کرے
اس کے منہ سے ہوئی زباں غائب
حوصلہ ان خلا نوردوں کا
سر سے کر دے گا آسماں غائب
کیا ہوا ہے مشاعروں کا حال
لوگ حاضر ہیں قدرداں غائب
شکل کیا ہو گئی فسانوں کی
لفظ حاضر ہیں داستاں غائب
جنگ شاید چھڑی ہے شہروں میں
پیر موجود نوجواں غائب
پی رہے تھے جو میرے ساتھ ابھی
یار وہ ہو گئے کہاں غائب
معجزہ دیکھیے سیاست کا
گھر سلگتے ہیں اور دھواں غائب