نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیں
Akhtar-ul-Iman (1915–1996)نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیں
دھیمی آواز میرے کانوں میں
دور سے آ رہی ہو تم شاید
بھولے بسرے ہوئے زمانوں میں
اپنی میری شکایتیں شکوے
یاد کر کر کے ہنس رہی ہو کہیں
نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیں
دھیمی آواز میرے کانوں میں
دور سے آ رہی ہو تم شاید
بھولے بسرے ہوئے زمانوں میں
اپنی میری شکایتیں شکوے
یاد کر کر کے ہنس رہی ہو کہیں