Poetry
- اپنی باتوں میں جو سادہ نظر آتا ہے مجھےخود میں وہ حد سے زیادہ نظر آتا ہے مجھےBadr Muneer
- اس نے دیکھا ادھر زیادہ دیرکیوں نہ رہتا اثر زیادہ دیرBadr Muneer
- اکثر ٹھن بھی جاتی ہےبگڑی بن بھی جاتی ہےBadr Muneer
- بڑھ گئی کچھ اور الجھن رابطہ کرنے کے بعدخود سے بھی شکوہ رہا اس سے گلہ کرنے کے بعدBadr Muneer
- بوڑھے کمزور والدین کے ساتھجی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھBadr Muneer
- پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میںآتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میںBadr Muneer
- تری آنکھوں سے میں خود پر عیاں ہونے لگا تھامجھے بھی اپنے ہونے کا گماں ہونے لگا تھاBadr Muneer
- ٹھہرنے کا سبب کوئی نہیں ہےپس دیوار جب کوئی نہیں ہےBadr Muneer
- جاتے جاتے گلے یہ غم پڑ جاتا ہےاچھا خاصا بندہ کم پڑ جاتا ہےBadr Muneer
- جب مکینوں کو مکیں آرام دے سکتے نہیںچار دیواری کو گھر کا نام دے سکتے نہیںBadr Muneer
- جہاں پر اہل دل ہوتے نہیں ہیںرویے معتدل ہوتے نہیں ہیںBadr Muneer
- حدت و حبس پہ تنقید نہیں کر سکتےکیوں ہم ایسا مرے خورشید نہیں کر سکتےBadr Muneer
- خیال اپنا ادھر لگا کےپڑا ہوں اب دل کو ڈر لگا کےBadr Muneer
- دیکھ لیتے ہو محبت سے یہی کافی ہےدل دھڑکتا ہے سہولت سے یہی کافی ہےBadr Muneer
- راز کو اپنے دل میں رکھودنیا کو مشکل میں رکھوBadr Muneer
- سینے میں جو ہے درد کا دریا نہیں اترالیکن مری امید کا چہرہ نہیں اتراBadr Muneer
- عین ممکن ہے یہ زحمت بھی اٹھانی پڑ جائےباتوں باتوں میں کوئی بات چھپانی پڑ جائےBadr Muneer
- فصل گل سے زر خزاں تک ہےعمر دونوں کے درمیاں تک ہےBadr Muneer
- کسے خبر ہے کہ کس ادا پر چلا گیا ہےیہ دل کہ حیرت کی انتہا پر چلا گیا ہےBadr Muneer
- کلام اپنا تبھی تو اکثر سے مختلف ہےجو سوچتے ہیں وہ پیش منظر سے مختلف ہےBadr Muneer
- کنج حیرت سے چلے دشت زیاں تک لائےکون لا سکتا ہے ہم دل کو جہاں تک لائےBadr Muneer
- کون دے گا ترے کوچے میں صدا میرے بعدسر کو پٹخے گی ترے در پہ ہوا میرے بعدBadr Muneer
- محو کر ڈالی کسی نے دل سے میری یاد تکہو نہیں سکتی مگر اس ظلم پر فریاد تکBadr Muneer
- نیند اڑنے کا سبب اور چین کھونے کا جوازپوچھتے ہیں لوگ مجھ سے عشق ہونے کا جوازBadr Muneer
- وحشت بام و در سے بھاگتے ہیںجب کبھی اپنے گھر سے بھاگتے ہیںBadr Muneer
- وفا ہوتی نہیں ہے بے وفائی ہو نہیں سکتیکچھ ایسی قید ہے جس سے رہائی ہو نہیں سکتیBadr Muneer
- وفور اشتیاق میں زباں سے کیا نکل گیاپھر اس کے بعد بزم کا مزاج ہی بدل گیاBadr Muneer
- وہ دل کی باتیں زمانے بھر کو نہ یوں سناتا مجھے بتاتاوہ ایک دفعہ مری محبت کو آزماتا مجھے بتاتاBadr Muneer
- ہمارے ساتھ جو یہ کار زندگانی ہےکسی بھٹکتی ہوئی روح کی کہانی ہےBadr Muneer
- اس وقت سے بچا مجھے اے رب کائناتحب وطن ہو دل میں وطن کاٹنے لگےBadr Muneer
- اور کیا مفہوم ہوگا خود فریبی کے سواتشنگی جلتے ہوئے سورج پہ گر ظاہر کریںBadr Muneer
- ایک امید کے سہارے پرکتنی تاخیر دیکھ لیتے ہیںBadr Muneer
- بن گئے انسان اپنی ذات میں جنگل منیرؔبستیوں سے اڑ گئی ہے بوئے آدم زاد تکBadr Muneer
- بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میںاچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیںBadr Muneer
- تجھ کو خود سے منہا کرتےنا ممکن تھا ایسا کرتےBadr Muneer
- تری صورت میں رہائی مل گئیآنکھ کتنے منظروں میں قید تھیBadr Muneer
- جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دناس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دنBadr Muneer
- جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیںمیری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیںBadr Muneer
- جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیںلگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیںBadr Muneer
- زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نےپھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھاBadr Muneer
- سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھیزیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتےBadr Muneer
- سمجھ میں آتا نہیں یہ کیسی نمو ہے مجھ میںوہ میری مٹی میں کچھ ملا کر چلا گیا ہےBadr Muneer
- طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔتو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چلBadr Muneer
- کب سے پہنچ گیا ہوں میں اس شخص کے قریبکہتی ہے پھر بھی اس کی نظر راستے میں ہوںBadr Muneer
- کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجےیہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہےBadr Muneer
- کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلےبے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیںBadr Muneer
- گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگوپھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیاBadr Muneer
- مسکرا کر اگر وہ دیکھے توآئنے پر نشان پڑ جائےBadr Muneer
- میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوںنئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوںBadr Muneer
- یہ آئینوں کے ہیں یا نقص میرےبگڑتے جا رہے ہیں عکس میرےBadr Muneer