سینے میں جو ہے درد کا دریا نہیں اترا
Badr Muneerسینے میں جو ہے درد کا دریا نہیں اترا
لیکن مری امید کا چہرہ نہیں اترا
انجانے میں اک بار کوئی بھول ہوئی تھی
اب تک مرے احباب کا غصہ نہیں اترا
سرمایۂ جاں ہاتھ سے جاتا رہا لیکن
اس عشق جنوں خیز کا قرضہ نہیں اترا
بتلاتی ہے یہ نقش کف پا کی روانی
میں دشت تمنا میں اکیلا نہیں اترا
کوشش تو مرے ذوق تجسس نے بہت کی
لیکن کسی چہرے سے بھی چہرہ نہیں اترا
کچرے سے اٹھائی جو کسی طفل نے روٹی
پھر حلق سے میرے کوئی لقمہ نہیں اترا