اپنی باتوں میں جو سادہ نظر آتا ہے مجھے

Badr Muneer

اپنی باتوں میں جو سادہ نظر آتا ہے مجھے

خود میں وہ حد سے زیادہ نظر آتا ہے مجھے

اور تو کچھ بھی نہیں رخت سفر میں شامل

ایک بس اپنا ارادہ نظر آتا ہے مجھے

یہ مرے سامنے رکھی ہے جو محلوں کی قطار

اپنا دل ان سے کشادہ نظر آتا ہے مجھے

پھر مرے پاؤں میں آ جاتا ہے چکر کوئی

پھر ترے شہر کا جادہ نظر آتا ہے مجھے

جب الٹتی ہے کسی دور میں جیون کی بساط

شاہ بھی کوئی پیادہ نظر آتا ہے مجھے