جاتے جاتے گلے یہ غم پڑ جاتا ہے
Badr Muneerجاتے جاتے گلے یہ غم پڑ جاتا ہے
اچھا خاصا بندہ کم پڑ جاتا ہے
ناز و ادا سے چلنے والا کیا جانے
دل کی زمیں پہ نقش قدم پڑ جاتا ہے
سنتے ہیں مظلوم کی آہ و زاری سے
ظالم کی تقدیر میں خم پڑ جاتا ہے
چاہے جتنا بھی سامان کیا جائے
کچھ نہ کچھ تو پھر بھی کم پڑ جاتا ہے
شامل ہو جب تیرے لہجے میں تلخی
یوں لگتا ہے شہد میں سم پڑ جاتا ہے
چلنے لگتی ہے جب بات محبت کی
بیچ میں کوئی اہل ستم پڑ جاتا ہے