اس نے دیکھا ادھر زیادہ دیر

Badr Muneer

اس نے دیکھا ادھر زیادہ دیر

کیوں نہ رہتا اثر زیادہ دیر

ساری دنیا تھی گوش بر آواز

کیسے چھپتی خبر زیادہ دیر

دل پہ دیتا رہا کوئی دستک

ہم نے کر دی مگر زیادہ دیر

صرف اخلاص ہو تو چلتا ہے

دوستی کا سفر زیادہ دیر

جسم بے جان ہو تو پھر کیسے

ساتھ دیں بال و پر زیادہ دیر

اس کے چہرے کی تابناکی پر

کیسے رکتی نظر زیادہ دیر