راز کو اپنے دل میں رکھو
Badr Muneerراز کو اپنے دل میں رکھو
دنیا کو مشکل میں رکھو
سوچیں ہوں پرواز میں لیکن
جڑوں کو آب و گل میں رکھو
حسن اگر ہے بے پایاں تو
اس کو آنکھ کے تل میں رکھو
اس کی یاد کے اجیاروں کو
اشکوں کی جھلمل میں رکھو
اس مہتاب صفت صورت کو
سپنوں کی محفل میں رکھو
ماضی کو چھوڑو ماضی میں
حال کو مستقبل میں رکھو
اچھے یار اور ان کی یادیں
جیون کے حاصل میں رکھو