کسے خبر ہے کہ کس ادا پر چلا گیا ہے

Badr Muneer

کسے خبر ہے کہ کس ادا پر چلا گیا ہے

یہ دل کہ حیرت کی انتہا پر چلا گیا ہے

چراغ اندر کی سازشوں سے بجھے ہوئے ہیں

اور اس کا الزام بھی ہوا پر چلا گیا ہے

کبھی تو ذہنوں پہ زور دینا کہ وقت اچھا

ہمارے جیون سے کس بنا پر چلا گیا ہے

میں اپنے حق میں دلیل کوئی بھی دے نہ پایا

معاملہ اب مرا خدا پر چلا گیا ہے

ترے بزرگوں میں کوئی اہل سخن نہیں تھا

منیرؔ تو کس سخن ادا پر چلا گیا ہے