کلام اپنا تبھی تو اکثر سے مختلف ہے
Badr Muneerکلام اپنا تبھی تو اکثر سے مختلف ہے
جو سوچتے ہیں وہ پیش منظر سے مختلف ہے
کہاں سے ہم اپنی گردشوں کا جواز ڈھونڈیں
ہمارا محور زمیں کے محور سے مختلف ہے
اسی لئے تو قبولیت کے ہیں در مقفل
دعا تمہاری مرے مقدر سے مختلف ہے
تبھی تو بیٹھے ہیں منظروں پر جمائے آنکھیں
جو ان کا ظاہر ہے ان کے اندر سے مختلف ہے
تراشتے ہیں جو آزران خیال اکثر
وہ ایک پیکر تمہارے پیکر سے مختلف ہے
منیرؔ دونوں ہیں نیل گوں وسعتوں کے حامل
مگر سمندر کا خواب امبر سے مختلف ہے