وفا ہوتی نہیں ہے بے وفائی ہو نہیں سکتی
Badr Muneerوفا ہوتی نہیں ہے بے وفائی ہو نہیں سکتی
کچھ ایسی قید ہے جس سے رہائی ہو نہیں سکتی
فقط جی ہی نہیں جاں کا زیاں بھی عین ممکن ہے
یہ کار عشق ہے اس میں کمائی ہو نہیں سکتی
کبھی خود سے کبھی دیوار و در سے گفتگو ٹھہری
تمہارے سامنے تو لب کشائی ہو نہیں سکتی
دل شوریدہ سر کے ساتھ چلتے ہیں مروت میں
پرانا یار ہے بے اعتنائی ہو نہیں سکتی
تماشا کیا دکھائیں ہم تجھے مسمار جذبوں کا
کہ شہر دل ہے اور اس میں کھدائی ہو نہیں سکتی
منیرؔ اک عمر جس کے نام کو ورد زباں رکھا
اب اس بے مہر کی ہم سے برائی ہو نہیں سکتی