تری آنکھوں سے میں خود پر عیاں ہونے لگا تھا

Badr Muneer

تری آنکھوں سے میں خود پر عیاں ہونے لگا تھا

مجھے بھی اپنے ہونے کا گماں ہونے لگا تھا

میں اپنی ذات کا صحرا جو تیرے پاس لایا

مرے اندر بھی بارش کا سماں ہونے لگا تھا

عطا مجھ کو ہوئی صد شکر تھوڑی سی اداسی

وگرنہ مفت میں جی کا زیاں ہونے لگا تھا

کہاں جاتے مری آنکھوں سے یہ آنسو نکل کر

دریدہ دامنی کا امتحاں ہونے لگا تھا

سراپا گوش ہو کر جو مجھے سنتا تھا پہروں

مرا لہجہ بھی اب اس پر گراں ہونے لگا تھا

جدائی کی گھڑی سے پیشتر سے رنگ موسم

پھر اس کے بعد ہر منظر دھواں ہونے لگا تھا