ٹھہرنے کا سبب کوئی نہیں ہے

Badr Muneer

ٹھہرنے کا سبب کوئی نہیں ہے

پس دیوار جب کوئی نہیں ہے

یہ دل مسکن خمار رائیگاں کا

یہاں جشن طرب کوئی نہیں ہے

بڑی عزت ہے میری اس کے دل میں

سر محفل ادب کوئی نہیں ہے

بہت کچھ مانگتے ہیں اہل دنیا

مگر حسن طلب کوئی نہیں ہے

محبت کے سراب مستقل میں

حساب روز و شب کوئی نہیں ہے

اندھیرے کس طرح کافور ہوں گے

کسی میں تاب و تب کوئی نہیں ہے