پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں

Badr Muneer

پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں

آتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میں

یہ تو آنے والا وقت بتائے گا

کیا لکھا ہے مہندی والے ہاتھوں میں

کچھ تو اپنی خاطر کرنا پڑتا ہے

پتھر ہوں جب دیکھے بھالے ہاتھوں میں

ہم بھی اپنی کوشش کا آغاز کریں

ہاتھ کوئی تو آ کر ڈالے ہاتھوں میں

اور نہیں تو بس اک روشن سی امید

ایسا کچھ اسباب اٹھا لے ہاتھوں میں