فصل گل سے زر خزاں تک ہے
Badr Muneerفصل گل سے زر خزاں تک ہے
عمر دونوں کے درمیاں تک ہے
فاصلے ہیں بہت کٹھن اس کے
رہگزر دل سے جو زباں تک ہے
ایک دن خال و خد ابھارے گی
جو حقیقت مرے گماں تک ہے
وقت کر دے گا آئنہ خود ہی
کون سا ہم سفر کہاں تک ہے
خوش گمانی ہے جو مرے اندر
وہ بھی شاید ترے بیاں تک ہے
کاش ہوتی دلوں کے بیچ منیرؔ
یہ رسائی جو آسماں تک ہے