وحشت بام و در سے بھاگتے ہیں

Badr Muneer

وحشت بام و در سے بھاگتے ہیں

جب کبھی اپنے گھر سے بھاگتے ہیں

ہاتھ ملتا ہے دیدۂ حیراں

لوگ اتنا ہنر سے بھاگتے ہیں

جس میں کچھ بھی برا نہیں لگتا

ایسے حسن نظر سے بھاگتے ہیں

میرے اس شہر بے یقین کے لوگ

شور سے اور شر سے بھاگتے ہیں

ایسا بدلا مزاج آب و ہوا

پیڑ اپنے ثمر سے بھاگتے ہیں

قہقہوں میں جو تھے شریک وہی

اب مری چشم تر سے بھاگتے ہیں

بدرؔ ہم ہیں غزال دشت جنوں

وہ جدھر ہو ادھر سے بھاگتے ہیں