حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے

منشی ٹھاکر پرساد طالب

حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے

حیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئے

کس طرح خانہ نشینی سے نہ گھبرا جائیں

آدمی ہم نہ ہوئے نقطۂ پرکار ہوئے

خانۂ چشم میں رکھا نہ بصارت نے قدم

بند جس دن سے ترے روزن دیوار ہوئے

ہے مرے پیش نظر اب بھی تمہارا بچپن

مجھ سے بتلاؤ کہ تم کب سے طرحدار ہوئے

نفع کیا پہونچے کسی کو جو تونگر ہو بخیل

کیا عنادل کو ملا پھول جو زردار ہوئے

پست ہمت ہوئی موسیٰ کی حقیقت سن کر

بھول کر ہم نہ کبھی طالب دیدار ہوئے

موقع دید جب آیا تو نگہ خیرہ ہوئی

مردم دیدہ عجب وقت میں بیمار ہوئے

شیشہ سے بن کے پری بنت عنب جب نکلی

دیکھ کر جامے سے باہر وہیں مے خوار ہوئے

وصل میں تلخیٔ فرقت کی تلافی یہ ہوئی

لب شیرین صنم مجھ سے شکر بار ہوئے

منتشر فکر معیشت سے ہوئے ہوش و حواس

طائر عقل رسا پر ترے بے کار ہوئے

حشر میں عیش کے ساماں ہوئے دشمن طالبؔ

یار غار اپنے جو دنیا میں تھے اغیار ہوئے