شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہے

منشی ٹھاکر پرساد طالب

شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہے

یہاں خزاں میں بھی لطف بہار رہتا ہے

تصور رخ و گیسوئے یار رہتا ہے

یہاں خیال یہ لیل و نہار رہتا ہے

تمہاری تیغ نگہ تیز کیوں ہے عاشق پر

یہ صید آپ ہی ہر دم شکار رہتا ہے

سیاہ پوشیٔ پیر فلک ہے راز عجیب

غم اس کو کس کا ہے کیوں سوگوار رہتا ہے

کیا ہے آنکھوں میں جس دن سے لخت دل نے مقام

ہمارے پیش نظر لالہ زار رہتا ہے

خدا بچاتا ہے بس ورنہ عاشق مہجور

اجل سے آٹھ پہر ہمکنار رہتا ہے

جسے کہ گردش گردوں نے پیس ڈالا ہو

زمیں سے کب اسے خوف فشار رہتا ہے

گناہ گار ہوں طالبؔ اسی سبب ہر دم

خیال آمد روز شمار رہتا ہے