دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کر

منشی ٹھاکر پرساد طالب

دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کر

یاد کعبہ آ گیا مجھ کو کلیسا دیکھ کر

تن کے چلنا ہے برا یاں کا چلن اچھا نہیں

جو ہیں دانا پاؤں وہ رکھتے ہیں دنیا دیکھ کر

نزع میں آنکھیں جو بدلیں میری وہ کہنے لگے

خوش ہوئے کیا پتلیوں کا ہم تماشا دیکھ کر

توبۂ زاہد کے دم پر آ بنی اک آن میں

دست ساقی میں لبالب جام صہبا دیکھ کر

سچ ہے بھائی تھا پھر آخر جوش خوں جاتا کہاں

رو اٹھا مجنوں مجھے جنگل میں تنہا دیکھ کر

اس لب جاں بخش کی معجز نمائی کا یقیں

ہو گیا طالبؔ کو اعجاز مسیحا دیکھ کر