Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
  2. تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئےاصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  3. جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوںسب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوںEhtisham ul Haq Siddiqui
  4. جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیںجو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیںEhtisham ul Haq Siddiqui
  5. حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تکتم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تکEhtisham ul Haq Siddiqui
  6. سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئےساری دولت میں یہ سکے کام آئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  7. شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
  8. شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑااس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑاEhtisham ul Haq Siddiqui
  9. طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  10. ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑےمٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑےEhtisham ul Haq Siddiqui
  11. کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلایاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلاEhtisham ul Haq Siddiqui
  12. کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئےوقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  13. مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھےوہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھےEhtisham ul Haq Siddiqui
  14. مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کررہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کرEhtisham ul Haq Siddiqui
  15. مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھمرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھEhtisham ul Haq Siddiqui
  16. مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  17. ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہےہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  18. نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  19. وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیایہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  20. ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہےوہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  21. یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنالبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھناEhtisham ul Haq Siddiqui
  22. اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹاورق انجمن دہر سراسر الٹامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  23. انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشقآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشقمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  24. ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبحشام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  25. بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیاکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  26. پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیںیہ اک بھولا ہوا پر آج ہم افسانہ کہتے ہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  27. ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتاتو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  28. جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  29. خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کادل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  30. رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کرطبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کرمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  31. سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدادل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  32. شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرحڈھونڈھتا ہوں چشمۂ حیواں سکندر کی طرحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  33. صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی راتدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی راتمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  34. ضبط سے دل نزار رہتا ہےاندرونی بخار رہتا ہےمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  35. کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھیدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھیمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  36. کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میںتل بھر جگہ نہیں ہے دل پر ملال میںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  37. کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیںاپنے کہنے ہی میں اپنا دل ناشاد نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  38. کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتاغبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  39. کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیںسو مرض ہیں اور بظاہر کوئی بیماری نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  40. کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرفلائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرفمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  41. کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھاآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  42. مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کامجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  43. معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھااس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  44. وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھاچارہ گر بھی نہ مرے درد کا درماں سمجھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  45. ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  46. ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیاآج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  47. آپ آئے تھے یاں جفا کے لئےجائیے بھی کہیں خدا کے لئےمرزا مسیتابیگ منتہی
  48. بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤںتیری صورت کے نہ دیکھے پیارے پیارے ہاتھ پاؤںمرزا مسیتابیگ منتہی
  49. جان دی ان پہ مر مٹے سسکےہیں حسیں لوگ آشنا کس کےمرزا مسیتابیگ منتہی
  50. جوانی کی حالت گزر جائے گیچڑھی ہے جو سر پر اتر جائے گیمرزا مسیتابیگ منتہی