Poetry
Poet
Meter
- ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
- تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئےاصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوںسب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوںEhtisham ul Haq Siddiqui
- جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیںجو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیںEhtisham ul Haq Siddiqui
- حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تکتم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تکEhtisham ul Haq Siddiqui
- سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئےساری دولت میں یہ سکے کام آئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
- شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑااس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑاEhtisham ul Haq Siddiqui
- طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑےمٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑےEhtisham ul Haq Siddiqui
- کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلایاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلاEhtisham ul Haq Siddiqui
- کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئےوقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھےوہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کررہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کرEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھمرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھEhtisham ul Haq Siddiqui
- مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہےہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیایہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہےوہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنالبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھناEhtisham ul Haq Siddiqui
- اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹاورق انجمن دہر سراسر الٹامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشقآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشقمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبحشام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیاکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیںیہ اک بھولا ہوا پر آج ہم افسانہ کہتے ہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتاتو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کادل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کرطبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کرمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدادل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرحڈھونڈھتا ہوں چشمۂ حیواں سکندر کی طرحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی راتدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی راتمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ضبط سے دل نزار رہتا ہےاندرونی بخار رہتا ہےمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھیدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھیمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میںتل بھر جگہ نہیں ہے دل پر ملال میںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیںاپنے کہنے ہی میں اپنا دل ناشاد نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتاغبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیںسو مرض ہیں اور بظاہر کوئی بیماری نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرفلائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرفمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھاآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کامجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھااس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھاچارہ گر بھی نہ مرے درد کا درماں سمجھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیاآج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- آپ آئے تھے یاں جفا کے لئےجائیے بھی کہیں خدا کے لئےمرزا مسیتابیگ منتہی
- بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤںتیری صورت کے نہ دیکھے پیارے پیارے ہاتھ پاؤںمرزا مسیتابیگ منتہی
- جان دی ان پہ مر مٹے سسکےہیں حسیں لوگ آشنا کس کےمرزا مسیتابیگ منتہی
- جوانی کی حالت گزر جائے گیچڑھی ہے جو سر پر اتر جائے گیمرزا مسیتابیگ منتہی