ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم
Ehtisham ul Haq Siddiquiترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم
نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم
ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا
جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم
وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے
خوشا کہ اس بار اس زمیں کو بھی دے گیا اک گلاب موسم
امیر لوگوں کی کوٹھیوں تک ترے غضب کی پہنچ کہاں ہے
فقط غریبوں کے جھونپڑوں تک ہے تیرا دست عتاب موسم
یہ برف پگھلے گی چوٹیوں سے پروں میں آئے گی پھر حرارت
بھریں گے اونچی اڑان پھر ہم رہے گا کب تک خراب موسم