وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا

Ehtisham ul Haq Siddiqui

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا

یہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیا

یہ بنانے والے کا شوق ہے کہیں ہار ہے کہیں طوق ہے

کہیں واہ ہے کہیں آہ ہے کہیں پا لیا کہیں کھو دیا

وہ اسیر حسن بیان ہوں میں زبان کا وہ کسان ہوں

کہ زمین مجھ کو جہاں دکھی وہیں اک خیال کو بو دیا

وہ جہان ہست کے موتیوں کو پرو رہا تھا کمال میں

میں بھی سامنے تھا پڑا ہوا تو مجھے بھی اس نے پرو دیا

نہ طلسم ہے نہ یہ سحر ہے یہ کمال کوزۂ شعر ہے

کہ اسی سے بحر رواں کیا اور اسی میں بحر سمو دیا