مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ

Ehtisham ul Haq Siddiqui

مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ

مرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھ

میری مٹی کب سے قید ہے مجھ میں تو

اک دن باہر آ جا اور بکھر کر دیکھ

سولہ منزل کون چڑھے بتلانے کو

نیچے کیا ہے اپنے آپ اتر کر دیکھ

روز ڈراتا رہتا ہے تو لوگوں کو

اپنے آپ سے اک دن خود بھی ڈر کر دیکھ

مجھ کو پڑھنا آتا ہے میں پڑھ لوں گا

میرے دل پر بن کے نقش ابھر کر دیکھ

کوئی مشکل تلخ نہیں ہے پینے میں

ہر مشکل کو آسانی میں بھر کر دیکھ

میں آنکھوں کو آئینہ کر دیتا ہوں

ان کے آگے بیٹھ کے آج سنور کر دیکھ