حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک
Ehtisham ul Haq Siddiquiحصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک
تم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تک
سمندروں کی ریاستوں کو لٹا کے آوارہ پھرنے والو
اب ایک قطرہ کی منتوں سے کرو گے خود کو ذلیل کب تک
تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ ناداں
کہ راہ ظلمت میں ساتھ دے گا کوئی چراغ علیل کب تک
جلال رفتہ کو بھول بھی جا ضرورت حال پر نظر کر
رکھے گا چولھے کی آگ ٹھنڈی پئے وقار قبیل کب تک
درازئ قد سے آدمی کو نصیب ہوتی نہیں بلندی
تجھے فریب فراز دے گی یہ کجکلاہ طویل کب تک