Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جور افلاک بسکہ جھیلے ہیںایسے پاپڑ بہت سے بیلے ہیںمرزا مسیتابیگ منتہی
  2. حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہےبند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  3. دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کواللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کومرزا مسیتابیگ منتہی
  4. دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میںخوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میںمرزا مسیتابیگ منتہی
  5. رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتےرک گئے بحر سے لعل و گہر آتے آتےمرزا مسیتابیگ منتہی
  6. صرصر گیسو ہلا رہی ہےسر پر کالے کھلا رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  7. فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کوغضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کومرزا مسیتابیگ منتہی
  8. فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہےغضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  9. قاتل عالم سے کیا یارانہ ہےدل چراغ گور کا پروانہ ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  10. کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والےپھرتے ہیں مارے مارے کیا کیا کمال والےمرزا مسیتابیگ منتہی
  11. کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہےجہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  12. مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیاشمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیامرزا مسیتابیگ منتہی
  13. ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہومسند ہو کہ اس میں بوریا ہومرزا مسیتابیگ منتہی
  14. منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیاجام مئے الست بھرا تھا چھلک گیامرزا مسیتابیگ منتہی
  15. نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریےمانند شیر دشت جہاں میں ڈکاریےمرزا مسیتابیگ منتہی
  16. ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہےاگر بغل میں دل داغدار باقی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  17. یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھبر خلاف اس کے یہاں تو نے کیا کیا کیا کچھمرزا مسیتابیگ منتہی
  18. یہ جس نے جان دی ہے نان دے گادیا ہے جس نے سر سامان دے گامرزا مسیتابیگ منتہی
  19. در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھایار سب کہتے ہیں اچھا بیٹھامرزا مسیتابیگ منتہی
  20. صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہےلوٹنا دل کا جگر کا پھڑپھڑانا یاد ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  21. میٹھی ہے ایسی بات اس کیلونڈی ہے اک نبات اس کیمرزا مسیتابیگ منتہی
  22. آ کدھر ہے تو ساقیٔ مخموربھر کے دے جام بادۂ انگورسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  23. اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہومگر یہ شرط ہے انسان کی تقدیر سیدھی ہوسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  24. الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیںکسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  25. ان بتوں سے ربط توڑا چاہئےچاہئے اب ان کو تھوڑا چاہئےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  26. بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھےمری صورت کو محفل میں وہ نقش بوریا سمجھےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  27. بوسہ دیتے ہو اگر تم مجھ کو دو دو سب کے دوجیبھ کے دو سر کے دو رخسار کے دو سب کے دوسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  28. تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیںیقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  29. تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیںہمیں ہیں ایک ان میں جو ترا غم کھانے والے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  30. جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیےمحتسب ساقی بنے مے خانہ ایسا چاہیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  31. جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیںآہ و فریاد کیا کرتے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  32. دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغان سنگ دل بتوں کا ہے اللہ کیا دماغسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  33. رونق عہد جوانی الوداعالودع اے شادمانی الوداعسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  34. رہتا ہے کب اک روش پر آسماںکھاتا ہے چکر پہ چکر آسماںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  35. رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیےمیرا بھی ایک بار کہا مان جائیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  36. کالی کالی گھٹا برستی ہےآج کیا لطف مے پرستی ہےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  37. کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میںآنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  38. کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیںمدت سے ان کی ہم پر یہ مہربانیاں ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  39. کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہےچرا کر دل مرا اب آنکھ بھی اپنی چرائی ہےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  40. کی مے سے ہزار بار توبہرہتی نہیں برقرار توبہسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  41. مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سےلگائے اے صنم جب تک نہ تو سینہ کو سینے سےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  42. ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیےیا کہ آیا ہے یہاں تیرے ستانے کے لیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  43. نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیاجوش جنوں سے چیر کے چرخ و زحل گیاسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  44. وسعت بحر عشق کیا کہیےابتدا ہو تو انتہا کہیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  45. ہیں بہت دیکھے چاہنے والےپر ملے کم نباہنے والےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  46. میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھیخرمن‌ برق میں لگا دوں گاسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  47. اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہےمرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا کا بھی ارماں ہےعلی منظور حیدرآبادی
  48. برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھاحیرت اثر ایسا مرا عالم نہ ہوا تھاعلی منظور حیدرآبادی
  49. پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیاایک مست ناز کو دل بے مدعا دیاعلی منظور حیدرآبادی
  50. جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھابیگانہ خو حسیں کو بیگانہ وار دیکھاعلی منظور حیدرآبادی