تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیں

Badr Shamsi

تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیں

کچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیں

مل کر بھی جدا رہنا ہے تقدیر محبت

وہ سامنے آئے ہیں تو ہم کھوئے ہوئے ہیں

ہیں زخم جگر محو مناجات محبت

یا ذکر الٰہی میں صنم کھوئے ہوئے ہیں

اس وقت نہ پائے گی ہمیں گردش دوراں

اس وقت تری یاد میں ہم کھوئے ہوئے ہیں

ان جاگتی آنکھوں میں سلگتے ہیں ابھی تک

کچھ خواب جو خود اپنا بھرم کھوئے ہوئے ہیں

خود سے بھی ملاقات نہیں تجھ سے بچھڑ کر

ہم بھی تری یادوں کی قسم کھوئے ہوئے ہیں

ہے کوئی جو آ کر ترے کوچہ کا پتہ دے

کچھ لوگ سر دیر و حرم کھوئے ہوئے ہیں

احساس کو الفاظ کا پیکر نہیں ملتا

تحریر کی وادی میں قلم کھوئے ہوئے ہیں

اب دل میں نہیں بدرؔ کوئی نقش تمنا

سائے پس دیوار حرم کھوئے ہوئے ہیں