پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آ

Badr Shamsi

پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آ

آ دل کی لگی اور بڑھانے کے لئے آ

پامال ہی کر ظلم ہی ڈھانے کے لئے آ

مجھ کو مرا احساس دلانے کے لئے آ

نوخیز بہاروں سے مرے دل کو سجا دے

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ

کب سے غم حالات کی راہوں میں پڑا ہوں

تو بھی کوئی ٹھوکر ہی لگانے کے لئے آ

پھولوں کا تقاضا تو نہیں دست کرم سے

کانٹے مری راہوں میں بچھانے کے لئے آ

ہو طنز کی بارش بھی توجہ کی ادا سے

اے ابر کرم آگ لگانے کے لئے آ

اب خود کو بھلاؤں کہ تجھے یاد کروں میں

اے حاصل غم اتنا بتانے کے لئے آ

لکھا ہے مرا نام ترے دل کے ورق پر

میں حرف غلط ہوں تو مٹانے کے لئے آ

ہر زخم دل بدرؔ کو اک تازہ خلش دے

لو بجھتے چراغوں کی بڑھانے کے لئے آ