تم اپنے ساتھ مری چشم تر بھی لے جاؤ
Badr Shamsiتم اپنے ساتھ مری چشم تر بھی لے جاؤ
سفر طویل ہے اک ہم سفر بھی لے جاؤ
نظر میں رونق دیوار و در بھی لے جاؤ
یہ کیا کہ دشت نوردی میں گھر بھی لے جاؤ
ان آندھیوں میں بھروسہ ہی کیا چراغوں کا
سجا کے اپنی ہتھیلی پہ سر بھی لے جاؤ
تم اپنی رات سجاؤ نئے اجالوں سے
ہمارا کیا ہے ہمارا سحر بھی لے جاؤ
ملیں گے زخم بہت زندگی کے میلے میں
تم اپنے ساتھ ہمارا جگر بھی لے جاؤ
میں ایک راہ کا پتھر سہی مگر لوگو
کبھی مجھے کسی آذر کے گھر بھی لے جاؤ
تمہارے ہاتھ کی خوشبو ضرور مہکے گی
ہماری خاک سے کوئی شرر بھی لے جاؤ
میں زندگی کے اندھیروں کا درد سہہ لوں گا
تم اپنی یاد کے شمس و قمر بھی لے جاؤ
میں بدرؔ خود ہی مسیحا ہوں اپنے زخموں کا
یہ جرم ہے تو مجھے دار پر بھی لے جاؤ