سکون دل کی طلب میں جو بے قرار نہیں
Badr Shamsiسکون دل کی طلب میں جو بے قرار نہیں
وہ اپنے درد محبت سے شرمسار نہیں
خوشی سے کون اٹھاتا ہے غم زمانے میں
یہ جبر وہ ہے کہ جس پر کچھ اختیار نہیں
سب اپنی ذات کی جانب ہیں آج گرم سفر
کوئی کسی کے لئے محو انتظار نہیں
کچھ اس طرح تری چشم کرم نے لوٹا ہے
مجھے خود اپنی تباہی کا اعتبار نہیں
نظر فریب بہاروں سے کھیلنے والے
تری نظر میں ابھی حاصل بہار نہیں
ہر ایک غم کا مداوا ہے خود فراموشی
وہ ہوشیار بہت ہے جو ہوشیار نہیں
جلاؤ بدرؔ شب غم چراغ اشکوں کے
کہ ان چمکتے ستاروں کا اعتبار نہیں