جو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھا
Badr Shamsiجو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھا
ہر چند وہ بچہ تھا مگر دل کا بڑا تھا
جب اپنی ہی پہچان سے رن اپنا پڑا تھا
ہم ایسے جیالوں پہ بھی وہ وقت کڑا تھا
طوفان سے لڑنے کی علامت تھا جو سوچو
یوں کہنے کو مٹی کا وہ اک کچا گھڑا تھا
کھل کر مجھے اک سانس کا لینا بھی تھا مشکل
حالات کا نیزہ مرے سینے میں گڑا تھا
وہ تیر چلاتا رہا نزدیک سمجھ کر
لیکن میں نشانے سے بہت دور کھڑا تھا
دیکھا تو ہمیں ٹوٹ کے دو ٹکڑے ہوئے تھے
دشمن کی صفوں میں بھی ہمارا ہی دھڑا تھا
ہر دھوپ میں جلنا ہی رہا اس کا مقدر
دیوار کا سایہ پس دیوار پڑا تھا
ہنگامۂ جاں شور انا دل کی قیامت
میں کتنے محاذوں پہ اکیلا ہی لڑا تھا
ہر زخم جو بخشا تھا مجھے اس کی نظر نے
اے بدرؔ نگینے کی طرح دل میں جڑا تھا