اب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہے
Badr Shamsiاب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہے
کس پھول میں ورنہ تری بو باس نہیں ہے
برباد محبت کی یہ آسودہ مزاجی
اب گردش دوراں کا بھی احساس نہیں ہے
کانٹوں پہ گزاری ہے سر بزم گلستاں
غنچوں کو تبسم کی ادا راس نہیں ہے
بخشے ہیں تری چشم عنایت نے وہ نشتر
اس دل کو تڑپنے کا بھی احساس نہیں ہے
مجبوریٔ فطرت ہے مرے لب کا تبسم
میرے دل مجروح کا عکاس نہیں ہے
غنچوں میں کہاں تیرے تبسم کی ادائیں
پھولوں میں تری نکہت انفاس نہیں ہے
دنیائے خلش نعمت غم یاس کا عالم
ہے کونسی دولت جو مرے پاس نہیں ہے
آ جائیے اب آپ مری خلوت غم میں
اس وقت مرا دل بھی مرے پاس نہیں ہے
ہر عکس میں آ جائے نظر بدرؔ وہ لیکن
روشن ابھی آئینۂ احساس نہیں ہے