پھر اس نگاہ کا نشتر مری تلاش میں ہے

Badr Shamsi

پھر اس نگاہ کا نشتر مری تلاش میں ہے

سکون دل کا پیمبر مری تلاش میں ہے

وہ جس نے مجھ کو کبھی آئنے میں دیکھا تھا

وہ ایک شخص برابر مری تلاش میں ہے

میں اپنی ذات میں بھٹکا ہوا مسافر ہوں

ہر ایک راہ کا پتھر مری تلاش میں ہے

یہ زندگی کا اندھیرا یہ کرب تنہائی

صلیب و دار کا منظر مری تلاش میں ہے

بہ نام تلخیٔ دوراں بہ نام زہر حیات

سنا ہے پھر کوئی ساغر مری تلاش میں ہے

سکوت ناز کو انداز گفتگو دے کر

کسی کی چشم سخنور مری تلاش میں ہے

ملا نہ چشمۂ حیواں سے جس کو آب حیات

نصیب کا وہ سکندر مری تلاش میں ہے

مجھے پناہ دے اے میرے غم کی تنہائی

امید و بیم کا لشکر مری تلاش میں ہے

میں بدرؔ اپنے اجالے میں خود ہی ڈوب گیا

تجلیٔ مہ و اختر مری تلاش میں ہے