کرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعد
Badr Shamsiکرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعد
عطا ہوا غم جاناں غم حیات کے بعد
ترے ستم کی قیامت بھی دل پہ گزری ہے
تری نگاہ عنایت کے حادثات کے بعد
نظر نظر ترا جلوہ نفس نفس خوشبو
عجیب حال ہے ترک تعلقات کے بعد
خود اپنی شکل نظر آئی ان کی صورت میں
نظر اٹھی جو حجاب تعینات کے بعد
کہیں ملا نہ وہ سایہ کہ دل ٹھہر جاتا
تمہارے غم کی کڑی دھوپ سے نجات کے بعد
یہ روشنی انہیں تاریکیوں سے پھوٹی ہے
یقین دل کو ملا ہے توہمات کے بعد
ہوئی ہے بدرؔ انہیں زحمت تغافل بھی
مگر مرے دل پامال التفات کے بعد