ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے
Aamir Azher (b. 1989)ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچے
شوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچے
لا مکاں سے جو چلے کون و مکاں تک پہنچے
بے کرانی سے گئے حد گماں تک پہنچے
کوئی صحرا کو چلا کوئی سمندر کو گیا
تیری آنکھوں کے سخن اہل جہاں تک پہنچے
کوئی اپنی بھی تو لے جائے کبھی بات وہاں
کتنے پیغام وہاں سے تو یہاں تک پہنچے
دل کا الجھاؤ ہے داغ دل آدم عامرؔ
دل کو معلوم نہیں داغ یہاں تک پہنچے