درد دل ہے نہ فلسفہ مرے پاس
Aamir Azher (b. 1989)درد دل ہے نہ فلسفہ مرے پاس
دال روٹی کا مسئلہ مرے پاس
پاس میرے بھی ہے تری ہی دعا
کاش ہوتا ترا خدا مرے پاس
آگہی آ گئی تو آ ہی گئی
اب نہیں کوئی راستہ مرے پاس
ایک پل ایک پل نہ روک سکا
وقت میرا تھا کب مرا مرے پاس
سست راتوں میں جس نے چھوڑا تھا
تیز بارش میں آ گیا مرے پاس
تم پری زاد ہو میں آدم ہوں
ایسے بے سدھ نہ بیٹھنا مرے پاس
واقعہ یہ ہے تو جو آ نہ سکا
تب سے میں بھی نہ آ سکا مرے پاس
میرا غم بھی ہے تیرے غم جیسا
ہے پر اس غم کی انتہا مرے پاس
درد جالی ہیں اشک نقلی ہیں
ایک ہے نیند کی دوا مرے پاس
وقت کا کیا قصور وقت تھا وہ
تو بھی عامرؔ کہاں رہا مرے پاس