اسے لگا تھا کسی اور ہی گلی میں ہوا
Ozair Yusuf (b. 1989)اسے لگا تھا کسی اور ہی گلی میں ہوا
جو حادثہ تھا خبر میں مری گلی میں ہوا
دو ایک لوگ نہیں تھے بھری گلی میں ہوا
تجھے خبر ہے تماشا تری گلی میں ہوا
ہماری بات گھروں کی گھروں میں کیوں نہ رہی
ہمارا فیصلہ کیونکر کسی گلی میں ہوا
مری گھڑی تو رکی ہے مجھے بتاؤ ذرا
طلوع صبح یہاں کون سی گلی میں ہوا
پھر ایک شخص کھڑا دیکھتا تھا ہر گھر کو
کہ گھر کا دکھ تھا اسے اور دکھی گلی میں ہوا
عجیب قتل تھا آواز تک نہ آئی کوئی
نہ کوئی شور شرابہ کسی گلی میں ہوا
تمہارا مجھ سے بچھڑنے کا تذکرہ ہر پل
برائے بحث ہوا اور گلی گلی میں ہوا
جہاں سے راستے اپنے جدا ہوئے تھے عزیرؔ
ہمارا سامنا پھر سے اسی گلی میں ہوا