موت آکر کھڑی ہے سرہانے

Yawar Ali (b. 1988)

موت آکر کھڑی ہے سرہانے

آج بھی آ گیا وہ تڑپانے

کچھ نہ کچھ راز سب چھپائے ہیں

سب کے دل میں ملیں گے تہہ خانے

خاک ہو جائیں گے سبھی اک دن

باقی رہ جائیں گے بس افسانے

کیا ڈراؤگے آگ سے ہم کو

شمع تم ہو تو ہم ہیں پروانے

جس کا کوئی نہیں زمانے میں

اس کے درد آشنا ہیں ویرانے