کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیں
Ozair Yusuf (b. 1989)کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیں
تو یقیناً بات میری ٹھیک سے سمجھا نہیں
میری چپ کی گفتگو کو سننے والے چپ رہے
اور بھی کچھ بولنا تھا اور میں بولا نہیں
عمر ساری کٹ گئی دونوں کی دروازے کے پاس
میں نے دستک دی نہیں اور اس نے در کھولا نہیں
تیرے رستے میں پڑا تھا ایک پتھر کی طرح
پھر تری ٹھوکر لگی اور میں کہیں ٹھہرا نہیں
اک جگہ پر چھوڑ کر خود کو میں آگے چل دیا
اور پھر میں واپسی پر اس جگہ پر تھا نہیں
روبرو میرے وہی ہے چار سو میرے وہی
ایک مدت سے جو میرے سامنے آیا نہیں
سانحے کی اور کیسی شکل ہوتی ہے عزیرؔ
اس نے دل پہ ہاتھ رکھا اور دل دھڑکا نہیں