مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوا

Ozair Yusuf (b. 1989)

مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوا

مکالمہ جو ہوا بھی تو بے زباں سے ہوا

میں اس کی سمت جو نکلا تو کچھ نہیں تھا وہاں

وہیں کھڑا تھا اشارہ مجھے جہاں سے ہوا

تمہارے بعد بدن میں تلاش کرتا ہوں

میں اپنے آپ میں خالی کہاں کہاں سے ہوا

میں اپنے قاعدے قانون لے کے آیا ہوں

وہ نصف نصف نہیں جو بھی درمیاں سے ہوا

تلاش کرتے پھرے ہم سفر عزیرؔ مجھے

کچھ اس طرح میں جدا گرد کارواں سے ہوا