دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھی
Parul Singh Noor (b. 1989)دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھی
کھڑکی سے چوری چوری وہ تکتے ہیں آج بھی
کہتا ہے کون عشق کے لہجے بدل گئے
کنگن کلائیوں میں کھنکتے ہیں آج بھی
کرتا ہے کوئی سازشیں ورنہ یوںہی نہیں
آنچل گھڑی میں اک دو اٹکتے ہیں آج بھی
اتنی ہے پاک عشق کی یہ داستاں سنو
آنے میں وہ قریب جھجکتے ہیں آج بھی
خوابوں سے اب تلک تری صورت نہیں گئی
اٹھ اٹھ کے رات بھر کو سسکتے ہیں آج بھی
نیچی نگاہ اٹھتی ہے آتے ہی نورؔ کے
یعنی شریف لوگ بہکتے ہیں آج بھی