گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھا

Ozair Yusuf (b. 1989)

گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھا

ترے خیال نے جانے کہاں بلایا تھا

تری تلاش میں بھٹکا تو یاد آنے لگا

وہ ایک گھر جو ترے واسطے بنایا تھا

میں گھورتا ہوں بجھا کر دیا سلائی کو

کہ بھولتا ہوں اسے کس لیے جلایا تھا

تری خموشی ادھر مسئلہ بنی ہوئی تھی

اداسیوں نے ادھر بھی قدم جمایا تھا

وہ روشنی جو بدن سے نہیں گزرتی تھی

اسی نے سائے کو دیوار سے لگایا تھا

وہی اداسی مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے

تری نظر سے جو آنکھوں میں بھر کے لایا تھا