اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا نشاں رکھا ہے
Ozair Yusuf (b. 1989)اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا نشاں رکھا ہے
صاف ظاہر ہوں مگر خود کو نہاں رکھا ہے
سوچ سکتا ہوں تجھے دیکھ نہیں سکتا میں
کیا بتاؤں کہ تجھے میں نے کہاں رکھا ہے
وہ مری سمت میں آئے گا پلٹنے کے لئے
میں نے امکان سے آگے بھی گماں رکھا ہے
آنکھ کھلتی ہے کسی اور جہاں میں میری
بند آنکھوں میں کوئی اور جہاں رکھا ہے
سلسلہ وار مرے خواب میں آ کر اس نے
کس تواتر سے کہانی کو رواں رکھا ہے
اس نے رکھا ہے مجھے ساتھ تو اپنے لیکن
دل ہی رکھا ہے مرا دل میں کہاں رکھا ہے
بے خیالی نے اٹھا کر یہ مرا پاؤں عزیرؔ
جس جگہ کوئی نہیں پہنچا وہاں رکھا ہے