مت دکھاؤ حوصلے طوفاں گزر جانے کے بعد

Yawar Ali (b. 1988)

مت دکھاؤ حوصلے طوفاں گزر جانے کے بعد

مر گیا ہے آدمی دنیا میں ڈر جانے کے بعد

وقت سے تحفے میں میں نے تجربہ پایا نہیں

زندگی کو جان پایا ہوں بکھر جانے کے بعد

دشمنوں سے جنگ میں ممکن ہے بچ جائیں مگر

بچ نہیں سکتے ہیں ہم امید مر جانے کے بعد

کاش آ جائے مجھے آنسو چھپانے کا ہنر

درد ہو جاتا ہے ظاہر آنکھ بھر جانے کے بعد

دھیرے دھیرے بن گیا اک اجنبی سے آشنا

وہ مرے دل کے نشیمن میں ٹھہر جانے کے بعد

آبرو الفت وفا خوشیاں تعلق دوستی

کچھ نہیں بچتا ہے نظروں سے اتر جانے کے بعد