زندگی بس زندگی اتنی بنانی رہ گئی
Parul Singh Noor (b. 1989)زندگی بس زندگی اتنی بنانی رہ گئی
بن گئے کردار سارے بس کہانی رہ گئی
چھوڑ کر تہذیب جب بس بد زبانی رہ گئی
تو کہو کس کام کی پھر نوجوانی رہ گئی
عقل دولت دوستی سب لاپتہ سا ہو گیا
عشق میں اب محض میری جان جانی رہ گئی
تتلیاں حق دار گلشن کے سبھی پھولوں کی تھیں
جگنوؤں کی قسمتوں میں رات رانی رہ گئی
وہ بزرگوں کی بتائی تو کہیں ملتی نہیں
اب دکھوں کو جھیلتی ہی بس جوانی رہ گئی