زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیں
Nadeem Mahir (b. 1970)زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیں
وہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیں
کہانی میں مری پنہاں عجب سا کرب ہے غم ہے
قلم خاموش ہو جائے تو سطریں چیخ اٹھتی ہیں
گزاروں کس طرح لمحے اب اس شہر خموشاں میں
زبوں حالی پہ اب میری فصیلیں چیخ اٹھتی ہیں
ردیف و قافیہ کی ان دنوں اوقات ہی کیا ہے
غلط ہاتھوں میں پڑ جائیں تو بحریں چیخ اٹھتی ہیں
تلاطم ہے عجب سا میرے اندر آج کل ماہرؔ
بھنور خاموش ہوتا ہے تو لہریں چیخ اٹھتی ہیں