یوں زندگی کے لئے بے قرار ہیں ہم لوگ
Ganesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)یوں زندگی کے لئے بے قرار ہیں ہم لوگ
شکایتوں کے لئے شرمسار ہیں ہم لوگ
ابھی کسی کی نظر سے رہا ہوئے ہیں ہم
ابھی کسی کی نظر میں فرار ہیں ہم لوگ
چھپا رہے ہیں غموں کو یوں مسکرا کر ہم
نئی صدی کے نئے اشتہار ہیں ہم لوگ
شمار یوں تو ہمارا کہیں نہیں لیکن
سبھی یہ کہتے ہیں کہ بے شمار ہیں ہم لوگ
بکھر رہے ہیں ابھی ہم سنور رہے ہیں ابھی
کبھی ہیں خوش تو کبھی سوگوار ہیں ہم لوگ
چکا رہے ہیں ابھی قسط آرزو کو ہم
یوں حسرتوں کے ابھی قرض دار ہیں ہم لوگ
مہک رہی ہیں فضائیں ابھی پسینے سے
نئی امید کی فصل بہار ہیں ہم لوگ