درد غم حیات کا انجام کیا ہوا

Qaisar Azeez (b. 1962)

درد غم حیات کا انجام کیا ہوا

یہ پوچھتا ہے اب دل ناکام کیا ہوا

ہم انجمن میں جا کے تماشا بنے رہے

سر اپنے بے نیازی کا الزام کیا ہوا

دامن چھڑا کے چل دئے میرے عزیز بھی

میں مقصد حیات میں ناکام کیا ہوا

احساس کی رگوں میں حرارت نہیں رہی

سامان اس حویلی کا نیلام کیا ہوا

اب مجھ سے میرا حال کوئی پوچھتا نہیں

اس شوخ کی نگاہ میں ناکام کیا ہوا

اک بھیڑ تیرے نقش قدم پر نکل پڑی

قیصرؔ تو راہ ذوق میں بدنام کیا ہوا