خیال و خواب کی دنیا بدل گیا کوئی
Qaisar Azeez (b. 1962)خیال و خواب کی دنیا بدل گیا کوئی
حصار ذات سے باہر نکل گیا کوئی
حدیث دل کا بھی عنواں بدل گیا کوئی
ہمارے ساغر ہستی میں ڈھل گیا کوئی
بجھا نہ پائی اسے آنسوؤں کی بارش بھی
حسد کی آگ میں کچھ اتنا جل گیا کوئی
خزاں بدوش بہاریں بھی مسکرانے لگیں
کسی کی یاد میں ایسے مچل گیا کوئی
ادائے خاص سے کہنے لگا وہ جام بکف
کہ گرتے گرتے یہاں پھر سنبھل گیا کوئی
بتا رہی ہیں یہ قیصرؔ دھوئیں کی تحریریں
پرائی آگ میں کیوں پھر سے جل گیا کوئی