خود اپنی کاوشوں سے آب و دانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

Qaisar Azeez (b. 1962)

خود اپنی کاوشوں سے آب و دانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

پرندے اپنے رہنے کا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیں

ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں جو جان عزیز اپنی

سمندر کی تہوں میں بھی خزانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

دلوں میں جن کے ملنے کی تمنا جاگ اٹھتی ہے

وہ برسوں بعد بھی رشتہ پرانا ڈھونڈ لیتے ہیں

ہنر آتا ہے جن کو دشمنوں سے بچ نکلنے کا

وہ ہنس کر چال کوئی شاطرانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

بچا کر رکھنا ہے ہم کو یقین و اعتماد ان کا

کوئی قصہ نیا کوئی فسانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

انہیں آتے ہیں گر وعدہ خلافی کے ہنر قیصرؔ

تو اچھا سا کوئی ہم بھی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں