اس سے الگ ہو ایسی مری ذات ہی نہیں
Badr Mohammadi (b. 1963)اس سے الگ ہو ایسی مری ذات ہی نہیں
میرا نہیں ہے وہ تو کوئی بات ہی نہیں
اوروں سے مل کے بچتا ہے کچھ وقت ہی کہاں
ہوتی ہے خود سے میری ملاقات ہی نہیں
جنبش ہے تن بدن میں دھڑکتا نہیں ہے دل
یوں ہو گئے مشینی کہ جذبات ہی نہیں
معدود چند ہیں یہ مگر قد الگ الگ
اپنی تو انگلیوں میں مساوات ہی نہیں
ایسی جگہ بھی ہے کہ جلاتے نہیں چراغ
جیسے وہاں پہ آتی کبھی رات ہی نہیں
رہتی ہے پیاس کب جو نظر سے نظر ملے
آنکھوں سے بڑھ کے کوئی خرابات ہی نہیں
اے بدرؔ شاعرانہ تعلی ہے خوب شے
ایسا یہ دعویٰ ہے کہ جسے مات ہی نہیں